ابنا: پاکستان میں اربعین حسینی کے موقع پرہر چند کہ حکومت نے ڈبل سواری پر پابندی، موبائل فون سروس کی معطلی اور پولیس، رینجرز اور فوج کےدستوں کی تعیناتی سمیت سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے لیکن اس کے باوجود چہلم امام حسین(ع) کے موقع پر 4 بم دھماکوں کے نتیجے میں4 افراد جاں بحق اور ایدھی اور چھیپا کے رضاکاروں سمیت30 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ مومن آباد تھانے کی حدود اورنگی ٹاون نمبر 10میں واقع امام بارگاہ عزاخانہ کوثر سے کچھ فاصلے پریکے بعد دیگرے 2دھماکے ہوئے ۔ جن سے ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی اور خوف وہراس پھیل گیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں دھماکوں میں دھماکا خیز مواد سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا، وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ نے کراچی کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں اور دستی بم حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ۔ تاہم اس بار اربعین حسینی کے موقع پرجو اہم پیشرفت ہوئی وہ اس ملک میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کا عملی طور پر اتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ تھا۔ اربعین حسینی کے موقع پر راولپنڈی کے جلوس عزا سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ خطرات کا سامنا کرنا نئی بات نہیں، حسینیت گذشتہ چودہ سو سالوں سے امتحانات کا سامنا کرتی آئی ہے لیکن حسینی میدان میں حاضر رہے اور اسلام حقیقی کو زندہ رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام کے پاس دو گراں بہا چیزیں ہیں، ایک سجدہ شبیری اور دوسرا ضرب یداللہی، اور حقیقی مسلمان ان دو کا وارث ہے۔ شیعہ اور سنی میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن یارسول اللہ (ص) اور یاحسین (ع) کہنے والے ایک، اور متحد ہیں۔ جب تک شیعہ سنی بھائی بھائی کا نعرہ گونجتا رہے گا کسی سفیانی، اموی تکفیری کو سر اٹھانے کی جرات نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیسا مسلمان ہے جو اپنے رسول (ص) کے میلاد اور اپنے رسول (ص) کے نواسے کے ذکر کا دشمن ہے۔ راولپنڈی میں یوم عاشور پر رونما ہونے والا واقعہ عزاداری کو روکنے کی ناکام کوشش تھی، جس کے بعد سنی شیعہ نے مل کر عزاداری کا دفاع کیا۔علامہ امین شہیدی نے کہا کہ آج چہلم پر حسینیوں کا جم غفیر اس بات کا غماز ہے کہ عزاداری کے خلاف ہونے والی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں، آج انتظامیہ نے ہم پر پانی بند کیا، مگر وہ اس بات سے غافل ہیں کہ یہ نمازی اور عزادار غسل شہادت کرکے نکلے ہیں۔ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ جس طرح عزاداری کے جلوسوں میں سنی شیعہ یکجا اور متحد تھے، اسی طرح عید میلادالنبی(ص) کے جلوسوں میں بھی سنی و شیعہ یکجا اور متحد ہوں گے۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر مسلمانوں کی جانب سے اربعین حسینی کے جلوس کے موقع پرعملی طور پراتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ کرنے کے حوالے سے کہنا تھا۔وہ کربلا جس میں صرف بہتر پہنچے تھے، لیکن ان کی لازوال قربانیوں نے ایسی تاریخ رقم کر دی کہ آج ہر حریت پسند اس کربلا کو اپنا مرکز و محور سمجھ کر اس کی طرف بے ساختہ کھچا چلا آتا ہے۔ اس خاک اور اس کے خاک نشینوں سے قلبی رابطے کو منقطع کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے، نواسہ رسول اور ان کے باوفا اصحاب کی قبروں کو مسمار کیا گیا، اس پر پانی چھوڑ کر ہل چلائے گئے، زائرین پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی گئیں، کربلا آنے کے لئے ہاتھ کٹوانے یا اسی طرح کی دیگر ظالمانہ شرطیں رکھی گئی تھیں، لیکن زائرین کربلا نہ رکے، نہ ڈرے اور نہ سیدالشہدا کے حرم میں حاضری دینے سے پہلو تہی کی۔ نور کا یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے، صدیاں گذر گئیں، حضرت سیدالشہدا کا روضہ اقدس دشمن کی تمام تر کوششوں اور سازشوں کے باوجود نہ پہلے کبھی زائرین سے خالی ہوا تھا نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔جلوس عزائے نواسہ رسول (ص) کو بند کرنے، اس کے روٹ کو بدلنے کا خواب دل میں پالنے والوں نے کیا سمجھا کہ یہ جلوس فقط مذہبی رسم یا سیاسی جلسہ ہے جسے چند نعروں اور دعوں کے ذریعے بند کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ اس جلوس میں ماتم، نوحہ، تازیہ، شبیہ ذوالجناح، شبیہ علم جیسی رسوم تو ضرور ہیں لیکن اس کو فقط انہی چیزوں تک محدود سمجھنا خام خیالی ہے۔ یہ جلوس درحقیقت نواسہ رسول (ص) اور ان کے انصار و اعوان کے پاکیزہ لہو کی وہ حرارت ہے جو مومنین کے دلوں میں کبھی سرد نہیں پڑتی۔ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی عاشقان اہلبیت رسول (ص) اس حرارت سے تڑپ اٹھتے ہیں۔ یہ حرارت انھیں گھروں میں چین نہیں لینے دیتی۔ اس لئے کہ عاشق حسین (ع) تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس کے شہر میں یاد حسین (ع) کی کوئی محفل برپا ہو اور یہ شخص اس کا حصہ نہ بنے، کیونکہ روز محشر جب اس کا سامنا رسول خدا (ص) سے ہونا ہے تو وہ نہیں چاہتا کہ اس کا شمار دوستداران حسین (ع) کے سواء کسی اور گروہ سے ہو۔ تبھی تو مرد، خواتین، بچے، بوڑھے موسموں کی شدت، وسائل کی قلت، حالات کی دگرگونی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے گھروں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں حسین (ع) کے نانا کو ان کے مظلوم نواسے کی شہادت اور خانوادہ رسول (ص) کی اسیری کا پرسہ دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ صدیوں سے قائم ہے اور دنیا بھر میں جہاں بھی عاشقان حسین (ع) بستے ہیں تا قیام قیامت قائم رہے گا۔دنیا بھر سے عاشقان حسین (ع) سال کے باقی دنوں میں بالعموم اور یوم عاشور و یوم اربعین جسے ہم اپنی زبان میں چہلم شہدائے کربلا کہتے ہیں، پر بالخصوص نواسہ رسول (ص) کی بارگاہ میں حاضری کے لیے جاتے ہیں۔ اور نواسہ رسول (ص) کی بارگاہ میں اپنا ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اکثر عراقی زائرین اپنے گھروں سے کربلا تک کا یہ سفر پیدل طے کرتے ہیں۔ سینکڑوں میل کے اس سفر کے باعث پورا عراق ایک جلوس عزا کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور جب یہ زائرین سرزمین کربلا میں وارد ہوتے ہیں تو بے قابو ہو کر حرم امام حسین (ع) کی جانب دوڑنے لگتے ہیں۔ اور اس سال کربلا میں اربعین حسینی کے موقع پر ڈھائی کروڑ زائرین کا اجتماع ہوا۔ ان زائرین کی خدمت کے لیے لوگ سارے راستے میں لنگر و سبیل لگاتے ہیں، تاکہ کسی نہ کسی طرح عزاداراں حسین (ع) فہرست میں شمار ہوجائیں۔ تاہموہ لوگ جو کربلا نہیں جاسکتے اس سفر کربلا کی یاد میں ایک امام بارگاہ سے دوسرے امام بارگاہ تک پیدل چلتے ہیں، راستے میں حسین(ع) اور ان کے انصار کی شہادت پر گریہ و نوحہ کرتے ہیں، اسی سفر کو جلوس کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان یا دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والے عاشقان حسین (ع) اپنے اس سفر کے ذریعے یہ تصور کرتے ہیں کہ اے خدا اگرچہ ہم تیرے رسول (ص) کے نواسے کی بارگاہ میں نہ پہنچ سکے، تاہم اس مقام پر ہمارا آنا کربلا کی جانب سفر کے طور پر قبول فرما۔ یہ سفر ان عزاداروں کو اس اسلام سے متمسک کرتا ہے جس کے پرچم بردار حسین ابن علی (ع) ہیں۔حسین (ع) کی یاد میں اپنے گھروں کو خیر باد کہہ کر امام بارگاہوں اور عوامی مقامات پر آنا اور وہ بھی اتحاد بین المسلمین کا ایسے عالم میں عملی مظاہرہ کرنا جب تکفیری گروہ عالمی استکبار کا آلہ کار بن کر مسلمانوں کے مابین تفرقہ ڈالنے اوررحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفی (ص) کے میلاد اورنوا سہ رسول حضرت امام حسین (ع) کی عزاداری کے جلوس پر پابندی عائد کرنے کی نا کام کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ جلوس عزا نہ ہوتا تو شاید واقعہ کربلا بھی تاریخ کی کتابوں میں گم ہو جاتا۔ بہرحال آج بھی جلوس عزا ان تمام سختیوں اور رکاوٹوں کے باوجود اپنا حقیقی ہدف و مقصد حاصل کر رہا ہے۔
.......
/169